پاکستان کے لوگ اپنے بڑوں کی غلطیوں کی سزا بھگت رھے ھیں۔پاکستان میں جہالت کی وجہ سے لوگ یھاں پہنچے ھیں یا غربت کی وجہ سے ان حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔بالکل ایسے جیسے پہلے دنیا میں انڈا آیا یا مرغی۔بہرحال دونوں ایک دوسرے کیلیے لازم و ملزوم ہیں۔اگر میں پیشہ ور ہوتا تو یقیناَ بتا سکتا کہ پاکستانیوں کی موجودہ حالت کی ذ مہ داری کس پہ عائد ہوتی ہے۔ لیکن ایک بات صاف اور روشن ہے کہ پاکستان کی موجودہ حالت میں جہالت کا حصہ نمایاں ہے۔ اور یقینا" اسکا علاج بھي جہالت کا خاتمہ ہي ہے۔ جب تک لوگ باشعور نہیں ہوں گے، بات نہیں بن سکے گی۔ ایک بے شعور آدمی ملک و قوم کے لیے کچھ بھي نہیں کر سکتا اور باشعور آدمي ملک و قوم کا سرمایہ ہوتا ھے۔ اگر اللہ تعالٰي آپکو اتني توفیق بھي دے دیں کہ آپ جان جايں کہ دوسرے لوگ کس طرح زندہ ہیں اور ہم کس طرح تو یقین جانیے کہ آپ ایسے نہیں رہیں گے جیسے اب ہیں۔ میں اٹلي میں رہتا ہوں اور میري زندگي کا ایک حصہ ادھر ہي گزرا ہے۔ اللہ تعالٰي نے مجھے توفیق دي ھے کہ میں اپنے ارد گرد ھونے والے حالات و واقعات کا جائزہ لیتا ہوں اور جب کبھي وقت ملتا ھے تو ان حالات و واقعات کا موازنہ اپنے ملک سے کرتا ہوں۔جس چیز کا استعمال بہت ہوتا ہے وہ رواج پاجاتي ھے اور اس چیز میں نکھار آ جاتا ھے کیونکہ بار بار کے تجربات اس کے نقاہص کو کم کرتے رہتے ہیں۔ میں نے لکھنے سے پھلے یہ سوچا تھا کہ کسي کا بھي نام لے کر مثال نہیں دوں گا لیکن لگتا ہے یہ بہت مشکل کام ہے۔
میں نے پاکستان ٹیلي ویژن پہ پاکستاني سیاستدانوں کو بولتے ہوئے سنا ہے اللہ تعالٰي گواہ ہے کہ اس طرح کے سیاستدان ملک و قوم کے لیے زہر ہیں، لیکن یہ سیاستدان پاکستان کي سب سے بڑی سیاسي جماعت کے سرکردہ رھنما ہیں۔ میں نے اٹلي کے چند سیاستدانوں کو سنا ھے یقین کیجیے کہ یہ لوگ گو مذہب کي بات ہرگز نہیں کرتے لیکن یہ لوگ اپنے کام میں مخلص ہوتے ہیں ۔ اور اپنے پیشے سے ہرگز غداري نہیں کرتے۔ شاید ہم پاکستانیوں کي سب سے بڑي خرابي دولت کي ہوّس ہے۔ مجھے بہت ہي دکھ ہوتا ہے جب اطالوي ، پاکستانیوں کے بارے میں ایسي باتیں کرتے ہیں۔ جن جن لوگوں کا بھي پاکستانیوں سے واسطہ پڑا ہے ، میں نے کسي ایک کو بھي پاکستانیوں کے بارے میں اچھے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ مثال کے طور پہ اگر کسی اطالوي نے کسي پاکستاني کے آگے مکان بیچا تو بعد میں ایسے خیالات کا اظہار کیا کہ اگر مجھے پہلے پتہ ہوتا کہ یہ اس طرح کا آدمي ہے تو میں کبھي بھي اس کے ساتھ اتنا اچھا برتاؤ نہ کرتا۔ اگر کسي پاکستاني نے کسي سے وعدہ کیا کہ فلاں تاریخ تک پیسے واپس دے دوں گا تو عموما" وہ تاریخ کبھي نھیں آتي۔ میرے گھر ایک آدمي لوہے کے پائپ وغیرہ ٹھیک کرنے آیا اور اس نے ذرا بھي شرم محسوس نھیں کي اور مجھے کہا کہ پاکستاني (”مافیوزی“ مافیا کا عملی ثبوت ) ہوتے ہیں، اور مجھے بتایا کہ کس طرح ایک پاکستاني نے مجھ سے پہلے کام کروایا اور نجانے کتنے سال بیت گے ہیں ابھي تک مجھے میرے پیسے نہیں دیے۔ بالکل اسي طرح کا ایک اور واقعہ مجھے ایک اور اطالوي نے سنايا کہ ایک پاکستاني نے مجھ سے اپنے گھر کا کام کروایا اور میں نے وہ سامان بھي اپنے پیسوں سے خریدا تھا جو اس کے گھر لگایا لیکن اس بد بخت نے نہ ہي مجے میری مزدوری کے پیسے دیے اور نہ ھي اس سامان کے جو میں نے اس کے گھر لگایا تھا۔ یہ باتیں کرتے ہوئے اس اطالوي کي آنکھوں میں آنسو آ گئے اور وہ بھرائي ہوئي آواز میں کہنے لگا کہ میں نے اس پاکستاني سے کہا کہ تم اگر میری مزدوری کے پیسے نہیں دیتے تو نہ دو لیکن وہ چیزیں جو میں نے تمھارے گھر لگائي ہیں ان کے پیسے تو دے دو لیکن وہ میری بات نہیں ماننا۔ میرے خیال میں بات کافي آسان ہو جاتي ہے جب آدمي اپني غلطي مان لے اور آیندہ سے اس غلطي کہ نہ دہرانے کا فیصلہ کر لے۔ میں آپکو ایک اور واقعہ سناتا ہوں، میرے ساتھ کام پہ ایک اطالوي نے مجھے کہا کہ ہمارے ساتھ والا اپارٹمینٹ ایک پاکستاني نے خریدا ہے اگر تم ہماری مدد کرنا چاہو تو ہمیں صرف اتنا بتا دو کہ پاکستانيوں کے ساتھ ہم کس طرح چلیں کہ ہمیں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ میں نے کہا کہ یہ ایک تفصیلي کام ہے مختصرا" پیسوں کے بارے میں محتاط رہنا باقي تو کوئي ایسي بات نہیں۔